جنین میں اسلحے کی تجارت کے چار مشتبہ افراد گرفتار، اسرائیلی فوج کا اعلان
فوج نے چاروں پر اسلحے کی تجارت اور جنین کے ایک سابق دہشت گرد نیٹ ورک میں کام کرنے کا الزام لگایا، جسے وہ آئرن وال میں توڑنے کا دعویٰ کرتی ہے۔

اسرائیلی فوج نے جمعہ کی صبح بتایا کہ اس کے اہلکاروں نے جمعرات، 29 اکتوبر 2026 کو جنین شہر کے علاقے میں کارروائی کے دوران اسلحے کی تجارت کے شبہے میں چار فلسطینیوں کو گرفتار کیا۔ فوج نے انہیں ایک مقامی دہشت گرد نیٹ ورک سے جوڑا جسے، اس کے مطابق، آپریشن آئرن وال کے دوران ختم کیا گیا تھا۔
کارروائی میں دوفدیوان کمانڈو یونٹ اور پیراٹروپر بریگیڈ کے اہلکار شریک تھے۔ انہوں نے شین بیت کی خفیہ معلومات پر میناشے بریگیڈ کی کمان میں کام کیا۔ گرفتاریوں اور الزامات کو یہاں فوج کے مؤقف کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے؛ اعلان میں چاروں کے خلاف کوئی عدالتی فیصلہ پیش نہیں کیا گیا۔
خفیہ معلومات اور مزید تفتیش
فوج کی عبرانی عملیاتی ڈائری میں یہ تفصیل 30 اکتوبر کو 09:31 پر شائع ہوئی۔ اس میں کہا گیا کہ کارروائی پچھلے روز جنین شہر کے علاقے میں مکمل ہوئی۔ کسی خاص گلی کا نام نہیں دیا گیا اور یہ نہیں کہا گیا کہ ان افراد کو پناہ گزین کیمپ کے اندر گرفتار کیا گیا تھا۔
فوج کے مطابق چاروں کو مزید پوچھ گچھ کے لیے سکیورٹی اداروں کے حوالے کیا گیا۔ ٹائمز آف اسرائیل نے شین بیت کو تفتیش کرنے والے ادارے کے طور پر شناخت کیا۔ عوامی اعلان میں گرفتار افراد کے نام، انفرادی کردار یا ان تک پہنچنے میں مدد دینے والی خفیہ معلومات ظاہر نہیں کی گئیں۔
اس لیے مشتبہ افراد کا مقام معلوم کرنے والی معلومات اور بعد میں عدالتی کارروائی میں پیش کیے جا سکنے والے شواہد کے درمیان فرق ضروری ہے۔ فوج نے گرفتاری کی کارروائی کی خبر دی، تفتیش مکمل ہونے یا جرم ثابت ہونے کی نہیں۔
آپریشن آئرن وال سے تعلق
فوج کے مطابق مشتبہ افراد پہلے جنین کے اس نیٹ ورک میں کام کرتے تھے جسے آئرن وال میں ختم کیا گیا۔ یہ عبارت ان کی ماضی کی سرگرمی سے متعلق ہے۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ چاروں کسی نئے گروہ میں شامل تھے یا کوئی مخصوص مسلح تنظیم اس مبینہ اسلحہ تجارت کو چلا رہی تھی۔
آپریشن آئرن وال جنین میں 21 جنوری 2025 کو شروع ہوا تھا۔ اس روز فوجی اعلان میں فوج، شین بیت اور سرحدی پولیس کو شریک بتایا گیا۔ اکتوبر کی گرفتاریاں ظاہر کرتی ہیں کہ فوج ایسے لوگوں کا تعاقب جاری رکھے ہوئے ہے جنہیں وہ پرانے نیٹ ورک سے جوڑتی ہے۔ تاہم مختصر بیان اس نیٹ ورک کے موجودہ حجم یا باقی صلاحیت کا اندازہ نہیں دیتا۔
وسیع مہم، مگر الگ واقعات
اسی ہفتے یہودیہ اور سامریہ میں اسلحے سے متعلق دوسری کارروائیوں کی خبریں بھی آئیں۔ یروشلم پوسٹ نے 30 اکتوبر کو پولیس کے حوالے سے بتایا کہ قلقیلیہ کے قریب حبلہ میں الگ چھاپے کے دوران آتشیں اسلحہ، پرزے اور گولہ بارود ملا اور دو افراد گرفتار ہوئے۔ یہ برآمدگیاں حبلہ کے معاملے کی ہیں؛ انہیں جنین کے چار مشتبہ افراد سے ملنے والے شواہد کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔
وسیع تر مہم کے شہریوں پر بھی نمایاں اثرات پڑے ہیں۔ فلسطین میں اقوام متحدہ نے 7 ستمبر کو انسانی حقوق کے دفتر کے حوالے سے شائع کردہ رپورٹ میں آئرن وال کے دوران جنین، نور شمس اور طولکرم کے کیمپوں میں طویل بے دخلی اور تباہی بیان کی۔ یہ نتائج مجموعی مہم سے متعلق ہیں، 29 اکتوبر کی اس مخصوص گرفتاری کارروائی کا احوال نہیں۔
کون سی تفصیلات سامنے نہیں آئیں
جنین کے اعلان میں اس چھاپے میں برآمد ہونے والے ہتھیاروں کی فہرست، فائرنگ کے تبادلے کی خبر یا جانی نقصان کے اعداد نہیں تھے۔ خریداروں، سپلائرز، سودوں کی مالیت یا اسلحہ منتقل کرنے کے مبینہ راستوں کی شناخت بھی نہیں کی گئی۔ قریبی دوسری کارروائیوں کی خبروں سے یہ خلا پُر نہیں کیا جا سکتا۔
اب تک اعلان کردہ مخصوص نتیجہ چار گرفتاریاں اور اس کے بعد تفتیش ہے۔ اسلحے کی تجارت میں ہر فرد کی ذمہ داری ثابت ہوگی یا مسلح گروہوں سے مزید تعلقات سامنے آئیں گے، اس کا انحصار آئندہ شواہد اور کارروائیوں پر ہے۔