HamasVideo.comفلسطینی دہشت گردی بے نقاب
اردو

خبریں

اسرائیلی فوج کا دعویٰ: بریج اور غزہ شہر میں حماس کے دو اسلحہ گودام تباہ

فوج اور شین بیت نے کہا کہ گوداموں میں راکٹ، رائفلیں اور دھماکا خیز مواد تھا۔ الگ رپورٹ میں انتباہات، گھروں کو نقصان اور خاندانوں کی بے دخلی کا ذکر ہے۔

مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی تباہ شدہ اسلحہ گودام کی تصوراتی عکاسی، غزہ یا اصل حملوں کی تصویر نہیں۔

اسرائیلی فوج اور داخلی سلامتی کے ادارے شین بیت نے کہا ہے کہ جمعرات، 29 اکتوبر 2026 کی رات حملوں میں وسطی غزہ کے بریج علاقے اور غزہ شہر کے علاقے میں حماس کے عسکری ونگ کے زیر استعمال دو اسلحہ گودام تباہ کیے گئے۔ جمعہ، 30 اکتوبر کے اعلان میں کہا گیا کہ وہاں درجنوں ہتھیار موجود تھے اور شہریوں کو پہلے خبردار کیا گیا تھا۔

سکیورٹی اداروں نے ان حملوں کو جنگ بندی کے دوران حماس کی عسکری صلاحیت دوبارہ بننے سے روکنے کی اپنی اعلان کردہ کوشش کا حصہ بتایا۔ عمارتوں کی حماس کے گوداموں کے طور پر شناخت، ان کے اندر موجود سامان اور ان کی تباہی اسرائیلی جانب کے دعوے ہیں۔

فوج کے مطابق گوداموں میں کیا تھا

مشترکہ بیان میں آر پی جی، دھماکا خیز آلات، راکٹ، کلاشنکوف رائفلیں، دستی بم، میگزین اور دوسرے جنگی سازوسامان کا ذکر تھا۔ ہر مقام کی الگ فہرست یا عمارتوں کے پتے نہیں دیے گئے۔ فوج کی عبرانی عملیاتی ڈائری میں یہ اعلان 30 اکتوبر کو 13:31 پر شائع ہوا اور حملوں کا وقت واضح طور پر اس سے پچھلی جمعرات کی رات بتایا گیا۔

یہ فرق اہم ہے کیونکہ اعلان کی تاریخ لازماً کارروائی کی تاریخ نہیں ہوتی۔ فوجی بیان کے مطابق معاملہ غزہ کے الگ حصوں میں اسلحہ رکھنے کے دو مقامات کا ہے، کسی نئی زمینی کارروائی کے اعلان کا نہیں۔ بیان میں کسی گودام پر ہلاک یا زخمی ہونے والے افراد کی شناخت نہیں دی گئی۔

انتباہات اور شہریوں کا انخلا

فوج نے کہا کہ شہریوں کے لیے خطرہ کم کرنے کی خاطر پیشگی انتباہات، درست نشانہ لگانے والا اسلحہ اور فضائی نگرانی استعمال کی گئی۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ کتنے افراد کو اطلاع ملی، انہیں نکلنے کے لیے کتنا وقت دیا گیا یا متاثرہ علاقوں میں موجود سب لوگ وہاں سے جا سکتے تھے یا نہیں۔

الگ طور پر، اناطولو نے 29 اکتوبر کو رپورٹ کیا کہ انخلا کے انتباہات کے بعد بریج اور غزہ شہر کے صفطاوی علاقے میں عمارتوں پر حملے ہوئے۔ عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کے حوالے سے خبر رساں ادارے نے اندھیرے میں لوگوں کے نکلنے، بریج میں پانچ منزلہ عمارت تباہ ہونے اور ہمسایہ گھروں کو نقصان پہنچنے کی تفصیل دی۔ اس وقت اس کے ذرائع نے ان دو حملوں میں ہلاکتوں یا زخمیوں کی اطلاع نہیں دی تھی۔

مقامات اور وقت فوجی اعلان سے عمومی طور پر مطابقت رکھتے ہیں، مگر اناطولو کی رپورٹ آزادانہ طور پر ثابت نہیں کرتی کہ عمارتوں کے اندر کیا تھا۔ ابتدائی طور پر جانی نقصان کی خبر نہ ملنا بھی حملوں کے تمام اثرات کا جامع جائزہ نہیں ہے۔

جنگ بندی اور ہتھیاروں پر اختلاف

امریکی ثالثی میں جنگ بندی 10 اکتوبر 2025 کو شروع ہوئی تھی۔ رائٹرز نے 6 اکتوبر 2026 کو بتایا کہ حماس کو غیر مسلح کرنے اور اسرائیلی فوج کی مزید واپسی جیسے اہم مقاصد پر پیش رفت رکی ہوئی تھی۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے مسلسل حملے آئندہ حملوں اور دوبارہ ہتھیار جمع کرنے کی کوششوں کے خلاف ہیں؛ حماس ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔

جمعہ کے بیان میں اسرائیلی سکیورٹی اداروں نے کہا کہ وہ مسلح تنظیموں کی صلاحیت بحال کرنے یا اسرائیلی فوجیوں پر حملوں کے لیے ہتھیار جمع کرنے کی کوششوں کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنوبی کمان کے دستے معاہدے کے مطابق تعینات ہیں۔ یہ بیانات اسرائیل کا مؤقف بتاتے ہیں، جنگ بندی کی پابندی پر فریقوں کا اختلاف طے نہیں کرتے۔

اعلان سے کیا معلوم ہوتا ہے

بنیادی خبر فوج کا دو گودام تباہ کرنے کا دعویٰ اور ہتھیار جمع ہونے کا سلسلہ روکنے کا اعلان کردہ مقصد ہے۔ دستیاب بیان میں ہر جگہ کے نقصان کی الگ تفصیل، اہداف کی شناخت کا مکمل طریقہ یا اندر موجود سامان کی آزادانہ طور پر دستاویزی فہرست نہیں ہے۔

عینی شاہدین کے بیانات انہی علاقوں میں رہنے والوں کی زندگی میں آنے والے خلل کی الگ تصویر پیش کرتے ہیں۔ دونوں کو الگ رکھنے سے فوجی مقصد اور شہریوں پر بیان کردہ اثرات سمجھے جا سکتے ہیں، بغیر اس کے کہ کسی رپورٹ کو ایسے حقائق کا ثبوت سمجھ لیا جائے جو اس نے قائم نہیں کیے۔

ماخذ: 30 اکتوبر کی اسرائیلی فوج کی عملیاتی اپ ڈیٹس.